صفحات

Friday, 22 October 2021

ہم کو نہ اب کسی سے کوئی کام رہ گیا

 ہم کو نہ اب کسی سے کوئی کام رہ گیا

دنیا سے ہم چلے گئے بس نام رہ گیا

اب پیاس بجھانے کو یاں پانی کے علاوہ

مرغوب، ہوس اور خون کا جام رہ گیا

حاکم تو چھپا بیٹھا ہے پتھر کےقلعوں میں

مرنے کو ناحق آدمی بس عام رہ گیا

چھوڑا نہ اسپتال،نہ ہی باغ و درسگاہ

وحشی بھی دیکھ کے لرزہ بر اندام رہ گیا

ہر جنس یہاں آپ ہی بکنے کو ہے راضی

مرضی ہے خریدار کی، یہ دام رہ گیا

وعدہ کوئی وفا نہ کیا تُو نے ہمسفر

آمد کا منتظر کوئی ہر شام رہ گیا

دولت کو، محبت کو، شہرت کو، حسن کو

سب کو ہی پوجتے ہو، بس اِک رام رہ گیا

دِل چاہ کر بھی پا نہ سکا دید یار کی

حسرت سے چھو کے تیرے در و بام رہ گیا


مناہل فاروقی

No comments:

Post a Comment