ہم کو نہ اب کسی سے کوئی کام رہ گیا
دنیا سے ہم چلے گئے بس نام رہ گیا
اب پیاس بجھانے کو یاں پانی کے علاوہ
مرغوب، ہوس اور خون کا جام رہ گیا
حاکم تو چھپا بیٹھا ہے پتھر کےقلعوں میں
مرنے کو ناحق آدمی بس عام رہ گیا
چھوڑا نہ اسپتال،نہ ہی باغ و درسگاہ
وحشی بھی دیکھ کے لرزہ بر اندام رہ گیا
ہر جنس یہاں آپ ہی بکنے کو ہے راضی
مرضی ہے خریدار کی، یہ دام رہ گیا
وعدہ کوئی وفا نہ کیا تُو نے ہمسفر
آمد کا منتظر کوئی ہر شام رہ گیا
دولت کو، محبت کو، شہرت کو، حسن کو
سب کو ہی پوجتے ہو، بس اِک رام رہ گیا
دِل چاہ کر بھی پا نہ سکا دید یار کی
حسرت سے چھو کے تیرے در و بام رہ گیا
مناہل فاروقی
No comments:
Post a Comment