اک خطا اس کے روبرو کی تھی
گھر بنانے کی آرزو کی تھی
تنکا تنکا ہی جوڑنا چاہا
آشیانے کی جستجو کی تھی
ہر قدم پر جلا کے دل کا دِیا
روشنی میں نے چار سُو کی تھی
بیچ رستے سے ہی پلٹ آئی
جو دعا میں نے با وضو کی تھی
خواب رُوٹھے ہيں آج بھی مجھ سے
میں نے آنکھوں سے گفتگو کی تھی
میں زمانے سے کيا گِلہ کرتی
بے رُخی اس نے دوبدو کی تھی
ایک قطرہ نہ مل سکا ہم کو
تشنگی کم سے کم سبُو کی تھی
کون مرہم لگاتا زخموں پر
زندگی خود لہو لہو کی تھی
ناز تم نے بھی کس زمانے میں
سر چھپانے کی آرزو کی تھی
ناز ہاشمی
ایس ناز
No comments:
Post a Comment