صفحات

Friday, 22 October 2021

زیست کی تاریک راہوں میں دیا کوئی نہیں

زیست کی تاریک راہوں میں دِیا کوئی نہیں

اس سفر میں جز غم دل رہنما کوئی نہیں

ہم کسی اسکندر و دارا کا کھائیں کیوں فریب

ہم قلندر ہیں ہمارا مدعا کوئی نہیں

ایک تم ساری خدائی جس کی ہے حلقہ بگوش

اور میرے ظلمت کدہ میں دوسرا کوئی نہیں

کون اس نقار خانے میں سنے گا دوستو

اک شکستہ شیشۂ دل کی صدا کوئی نہیں

کس سے تجھ کو اے غم جاناں بھلا تشبیہ دیں

اتنی دلکش تو دھنک خوشبو صبا کوئی نہیں

اے بتان شہر! اس وضع کہن کو کیا ہوا

تم میں اب عشوہ طراز و کج ادا کوئی نہیں

میں نے خود اپنی اسیری شوق سے منظور کی

دوستو صیاد کی اس میں خطا کوئی نہیں

خاک پائے گلرخاں آوارۂ کوئے بتاں

ان دنوں جابر سا مرد پارسا کوئی نہیں


رفیق جابر

No comments:

Post a Comment