صفحات

Friday, 22 October 2021

دامن چاک لئے بیٹھا ہوں

 دامن چاک لیے بیٹھا ہوں

آنکھ نمناک لیے بیٹھا ہوں

جتنی کل مجھ کو ضرورت ہو گی

اتنی ہی خاک لیے بیٹھا ہوں

مختلف ٹاٹ کے پیوند لگی

ایک پوشاک لیے بیٹھا ہوں

اے ہوا یہ بھی اڑا کر لے جا

خس و خاشاک لیے بیٹھا ہوں


اقبال ارشد

No comments:

Post a Comment