اُن کا پیکر تو خیالی ہے مگر کیا کیجے
آنکھ بِن دیکھے لڑا لی ہے مگر کیا کیجے
اک قیامت سی بپا پوسٹ کیا کرتی ہے
ٹیگ کا دل یہ سوالی ہے مگر کیا کیجے
وہ جو ڈی پی پہ فقط ہاتھ قلم پکڑے ہے
لگتا پیکر وہ جمالی ہے مگر کیا کیجے
وال پر کتنی وہ پُر سوز غزل ڈالی تھی
دردِ دل کی تو دوا لی ہے مگر کیا کیجے
ایرے غیرے بھی تجھے دل کمنٹ کرتے ہیں
گرچہ حالت تو ملالی ہے مگر کیا کیجے
کچھ اموجی بھی مِری جان لیے جاتے ہیں
یوں تو ہر نقش سوالی ہے مگر کیا کیجے
کیا عنایت ہو جو مل جائے رسائی اب کے
آئی ڈی پھر سے بنا لی ہے مگر کیا کیجے
فیس بک کی یہ محبت بھی نرالی شہ ہے
کہتے ہیں روگ زوالی ہے مگر کیا کیجے
ہما علی
No comments:
Post a Comment