صفحات

Saturday, 2 October 2021

یہ بات صاف حقیقت ہے کوئی راز نہیں

 یہ بات صاف حقیقت ہے کوئی راز نہیں

کسی بھی دور میں شاعر زمانہ ساز نہیں

میں بندگی کے مفاہیم یوں سمجھتا ہوں

نماز میں ہوں اگر میں تو پھر نماز نہیں

بدلتی رُت نے مزاجوں کو بھی بدل ڈالا

ہر ایک شخص ہے محمود اور ایاز نہیں

اب ایسی قوم کا انجام تو خدا جانے

کہ جس میں اچھے برے کا بھی امتیاز نہیں

تمہارا عشق مِرے واسطے مصیبت ہے

تمہارے حسن سے بھی مجھ کو احتراز نہیں

مِرے خدا تِرے وعدے کو کیا کریں ہم لوگ

ربابِ ہستی میں نغمہ نہیں ہے ساز نہیں

یہ موت قتل ہے یہ خود کشی نہیں ہے عدید

کہ ایسے دور میں جینے کا تو جواز نہیں


سید عدید

No comments:

Post a Comment