من کو شانت کیا تھا گھر کو مہکا رکھا تھا
بھولی بسری یاد نے انت مچا رکھا تھا
گاڑی مجھ کو جیسے چھو کر گذر گئی تھی
میں نے خود کو اور کہیں الجھا رکھا تھا
سانسوں کی تاریک گزرگاہوں سے آگے
اس نے مجھ میں اپنا دِیا جلا رکھا تھا
تیزی سے بہتے پانی پر گاڑ کے نظریں
ہم دونوں نے پل کو ناؤ بنا رکھا تھا
میں نے اس کو موت کی آنکھ سے دیکھا ورنہ
وہ اک عام سا شخص تھا اس میں کیا رکھا تھا
بیچ بھنور کے اس نے اتار دیا کشتی سے
میں نے رختِ سفر میں آئینہ رکھا تھا
احمد حسین مجاہد
No comments:
Post a Comment