صفحات

Sunday, 3 October 2021

یہاں برسات نے بھی دکھ دئیے ہیں

 یہاں برسات نے بھی دُکھ دئیے ہیں

اندھیری رات نے بھی دکھ دئیے ہیں

یہاں سب تبصرے کڑوے ہوئے پر

تمہاری بات نے بھی دکھ دئیے ہیں

فراق و ہجر نے توڑا ہے، لیکن

مکمل ساتھ نے بھی دکھ دئیے ہیں

یہاں صحراؤں نے بھی کرب بانٹے

یہاں باغات نے بھی دکھ دئیے ہیں

دکھوں کے گِرد آہیں محوِ گردش

سُکھی حالات نے بھی دکھ دئیے ہیں

مجھے کُندن بنانے کے لیے ہی

خدا کی ذات نے بھی دکھ دئیے ہیں

سِمٹ کر رہ گئی کاجل یہ دنیا

نئے آلات نے بھی دکھ دئیے ہیں


سمیرا سلیم کاجل

No comments:

Post a Comment