صفحات

Sunday, 3 October 2021

تمہیں گر محبت گوارا نہیں ہے

 تمہیں گر محبت گوارا نہیں ہے

ہمیں بھی تو نفرت گوارا نہیں ہے

یہ پل بھر میں کیسا تعلق ہوا ہے

کہ پل بھر کی فرقت گوارا نہیں ہے

عجب ہے کہ ہم نے فرائض تو چھوڑے

مگر ترکِ الفت گوارا نہیں ہے

ستم ہر گوارا ہے لیکن تمہاری 

یہ اوروں سے قربت گوارا نہیں ہے

جو مجھ کو مجھی سے ہی بیگانہ کر دے

مجھے ایسی دولت گوارا نہیں ہے

سبب کس کو ٹھہرائیں ہم بھوکے پن کا

خدا کو شکایت گوارا نہیں ہے

میسر ہے جنت تو گھر ہی میں لیکن

ہمیں یہ سہولت گوارا نہیں ہے

حقیقت سے منہ موڑ کر مجھ کو باسط

قدم کی بھی حرکت گوارا نہیں ہے


باسط علی حیدری

No comments:

Post a Comment