تمہیں گر محبت گوارا نہیں ہے
ہمیں بھی تو نفرت گوارا نہیں ہے
یہ پل بھر میں کیسا تعلق ہوا ہے
کہ پل بھر کی فرقت گوارا نہیں ہے
عجب ہے کہ ہم نے فرائض تو چھوڑے
مگر ترکِ الفت گوارا نہیں ہے
ستم ہر گوارا ہے لیکن تمہاری
یہ اوروں سے قربت گوارا نہیں ہے
جو مجھ کو مجھی سے ہی بیگانہ کر دے
مجھے ایسی دولت گوارا نہیں ہے
سبب کس کو ٹھہرائیں ہم بھوکے پن کا
خدا کو شکایت گوارا نہیں ہے
میسر ہے جنت تو گھر ہی میں لیکن
ہمیں یہ سہولت گوارا نہیں ہے
حقیقت سے منہ موڑ کر مجھ کو باسط
قدم کی بھی حرکت گوارا نہیں ہے
باسط علی حیدری
No comments:
Post a Comment