خود سے بھی اجنبی سا لگتا ہے
مجھ کو جو زندگی سا لگتا ہے
ہر کسی بار درد دیتا ہے
وقت بھی آدمی سا لگتا
تُو بدل کر کبھی کبھی مجھ کو
اپنا جیسا کسی سا لگتا ہے
روز یہ ڈُوبتا ہوا سورج
جانے کیوں بیکسی سا لگتا ہے
زندہ رہنا کبھی کبھی جیسے
ہر گھڑی خودکشی سا لگتا ہے
میں یہاں پر مکاں بناؤں کیا
سب مجھے عارضی سا لگتا ہے
عقیل شاہ
No comments:
Post a Comment