صفحات

Sunday, 3 October 2021

خود سے بھی اجنبی سا لگتا ہے

 خود سے بھی اجنبی سا لگتا ہے

مجھ کو جو زندگی سا لگتا ہے

ہر کسی بار درد دیتا ہے

وقت بھی آدمی سا لگتا

تُو بدل کر کبھی کبھی مجھ کو

اپنا جیسا کسی سا لگتا ہے

روز یہ ڈُوبتا ہوا سورج

جانے کیوں بیکسی سا لگتا ہے

زندہ رہنا کبھی کبھی جیسے

ہر گھڑی خودکشی سا لگتا ہے

میں یہاں پر مکاں بناؤں کیا

سب مجھے عارضی سا لگتا ہے


عقیل شاہ

No comments:

Post a Comment