جفا کار سے میں وفا چاہتا ہوں
'مِری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں'
جلایا ہے اب کے جو گھر میں نے اپنا
تو ظلمت میں تھوڑی ضیا چاہتا ہوں
جو کہتے ہو کاٹوں تِرا ہجر یونہی
تو تیشہ بھی فرہاد سا چاہتا ہوں
تِرا قرب ہو جائے اس کی سزا پھر
ہو مجھ سے بھی ایسی خطا چاہتا ہوں
محبت، محبت، مسلسل محبت
محبت کا ہی سلسلہ چاہتا ہوں
یہ لُکنت زباں کی بہانے ہیں تیرے
میں ہر بات ہی برملا چاہتا ہوں
بہت ہے تکبّر جو اپنی نسل پر
لا، شجرہ تِرا دیکھنا چاہتا ہوں
یہ کافی نہیں ہے کہ راتوں کو جاگوں
میں غم اور اس کے سوا چاہتا ہوں
طوائف بھی ہوتی ہے بیٹی کسی کی
میں اس کے لیے بھی رِدا چاہتا ہوں
انا ہار کر جیت جاؤں محبت
میں کھیل اس طرح کھیلنا چاہتا ہوں
لو کر تو لیا ہے خودی کو بلند اب
وہ پوچھے نہیں ہے میں کیا چاہتا ہوں
لگی باتیں میری جو گستاخیاں تو
میں ہردے کی تہہ سےشما چاہتا ہوں
ہمیشہ ہی تشنہ رہا یہ سخنور
لحد پر یہ کتبہ لکھا چاہتا ہوں
عامر شہزاد تشنہ
No comments:
Post a Comment