صفحات

Wednesday, 6 October 2021

لوگ ملنے چلے آتے ہیں چلے جاتے ہیں

 لوگ ملنے چلے آتے ہیں چلے جاتے ہیں

مختصر وقت بتاتے ہیں، چلے جاتے ہیں

میں بلاتا ہوں انہیں درد گھٹانے کے لیے

وہ مرا درد بڑھاتے ہیں، چلے جاتے ہیں

کرتے رہتے ہیں ہمہ وقت تعاقب ان کا

ہم انہیں دیکھتے جاتے ہیں، چلے جاتے ہیں

کوچۂ دل میں تیری یاد کے کچھ قافلے تھے

آتے ہیں، خاک اڑاتے ہیں، چلے جاتے ہیں

پوچھتا کوئی نہیں ہم سے ہمارے ارماں

سب ہی غم اپنے سناتے ہیں، چلے جاتے ہیں

آئے دن دیکھتا ہوں، لوگ اکٹھے ہو کر

خاک میں خاک ملاتے ہیں، چلے جاتے ہیں

مفلسی ساتھ اگر ہو تو یہ سارے احباب

دور سے ہاتھ ہلاتے ہیں، چلے جاتے ہیں


فیصل امام رضوی

No comments:

Post a Comment