غم چھپانے سے شعر ہوتے ہیں
جی جلانے سے شعر ہوتے ہیں
اس سے کہہ دو کہ وہ چلا جائے
اس کے جانے سے شعر ہوتے ہیں
جانِ من! روٹھ بھی تو جایا کر
پھر منانے سے شعر ہوتے ہیں
جیت کر ہاتھ کچھ نہیں آتا
ہار جانے سے شعر ہوتے ہیں
مجھ کو قربت تِری میسر ہے
اس بہانے سے شعر ہوتے ہیں
پیار سے کوئی گیت گاتی ہوں
گنگنانے سے شعر ہوتے ہیں
صوفیہ زاہد
No comments:
Post a Comment