Saturday, 2 October 2021

غم چھپانے سے شعر ہوتے ہیں

 غم چھپانے سے شعر ہوتے ہیں

جی جلانے سے شعر ہوتے ہیں

اس سے کہہ دو کہ وہ چلا جائے

اس کے جانے سے شعر ہوتے ہیں

جانِ من! روٹھ بھی تو جایا کر

پھر منانے سے شعر ہوتے ہیں

جیت کر ہاتھ کچھ نہیں آتا

ہار جانے سے شعر ہوتے ہیں

مجھ کو قربت تِری میسر ہے

اس بہانے سے شعر ہوتے ہیں

پیار سے کوئی گیت گاتی ہوں

گنگنانے سے شعر ہوتے ہیں


صوفیہ زاہد

No comments:

Post a Comment