غموں کا چاند ڈوبا، ارغواں سورج نکل آیا
اُجاگر ہو گئیں سب بستیاں، سورج نکل آیا
لگا کر پر تیری یادوں کےان اُجلی فضاؤں میں
اُڑیں کرنوں کی اُجلی تتلیاں، سورج نکل آیا
رہِ شب پر یونہی دو ہمسفر قدموں کی چاپ ابھری
اندھیروں کی گپھا سے بد گماں، سورج نکل آیا
پرو دی ہیں شفق نے رات کی کالی جٹاؤں میں
ہوا کی مدھ بھری موسیقیاں، سورج نکل آیا
لرز کر رہ گیئں جھکتی ہوئی آنکھوں کے پردوں پر
سنہری نیند کی پرچھائیاں، سورج نکل آیا
اُفق کے پار گہری گھاٹیوں کی اور اے اختر
رواں ہیں تیرگی کی بدلیاں، سورج نکل آیا
مراتب اختر
No comments:
Post a Comment