صفحات

Thursday, 7 October 2021

وہ میرا ہے تو کبھی بھی نہ آزماؤں اسے

 وہ میرا ہے تو کبھی بھی نہ آزماؤں اسے

مِرا نہیں ہے تو پھر کس لیے ستاؤں اسے

وہ ماہتاب سے بڑھ کر کے ہو گیا سورج

جو خود بھی آئے تو کیسے گلے لگاؤں اسے

میں چاہتا ہوں مِرا پیار اس سے ایسا ہو

وہ روٹھتا رہے میں بارہا مناؤں اسے

تمام دن کی مشقت بھری تکان کے بعد

تمام رات محبت سے پھر جگاؤں اسے

مِرا حبیب مِرے عشق میں کھلونا ہو

وہ ٹوٹ جائے تو پھر جوڑ کر بناؤں اسے

ہُوا کرے مِرا اس سے مقابلہ یوں بھی

اسی سے جیت کے اس کو ہی ہار جاؤں اسے

وہ جانتا ہے مِرے ہر سوال کا مطلب

اگر جواب بھی دے دے تو مان جاؤں اسے

یہی دعا ہے مِری رب دو جہاں سے بلال

کسی سے عہد کروں گر تو پھر نبھاؤں اسے


اشہد بلال چمن

No comments:

Post a Comment