صفحات

Monday, 11 October 2021

یہ کن لمحات میں بیٹھے ہوئے ہیں

 یہ کن لمحات میں بیٹھے ہوئے ہیں

شکاری گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں 

بڑھا کر ہاتھ اس کو چُھو تو لیں ہم 

مگر اوقات میں بیٹھے ہوئے ہیں 

مِرا کیا ہے، چلا جاؤں گا میں تو

مگر جو ساتھ میں بیٹھے ہوئے ہیں

عجب ہیں نا الگ دنیا کے سورج

اندھیری رات میں بیٹھے ہوئے ہیں

سہولت سے جو آگے بڑھ سکیں گے

وہی خدشات میں بیٹھے ہوئے ہیں


حارث جمیل

No comments:

Post a Comment