یہ کن لمحات میں بیٹھے ہوئے ہیں
شکاری گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں
بڑھا کر ہاتھ اس کو چُھو تو لیں ہم
مگر اوقات میں بیٹھے ہوئے ہیں
مِرا کیا ہے، چلا جاؤں گا میں تو
مگر جو ساتھ میں بیٹھے ہوئے ہیں
عجب ہیں نا الگ دنیا کے سورج
اندھیری رات میں بیٹھے ہوئے ہیں
سہولت سے جو آگے بڑھ سکیں گے
وہی خدشات میں بیٹھے ہوئے ہیں
حارث جمیل
No comments:
Post a Comment