صفحات

Monday, 22 November 2021

تری حنائی ہتھیلی سے آشنا ہوں میں

 تِری حنائی ہتھیلی سے آشنا ہوں میں

بچھڑنے والے تِرے درد کی دوا ہوں میں

یہ واپسی تو نئی جنگ کا بگل ہے دوست

سمجھ کہ پھر سے تِری سمت آ رہا ہوں میں

سڑک کے پار مِرے پاؤں تھک کے رکنے لگے

کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ؛ راستہ ہوں میں

جدائی راکھ ہوئی شام کے کنارے پر

کہ ہجر و وصل کی راتوں کا سلسلہ ہوں میں

اداس رات کو روشن کروں گا جل جل کر

کسی کے ہجر میں بجھتا ہوا دِیا ہوں میں


وقاص عزیز

No comments:

Post a Comment