صفحات

Monday, 22 November 2021

اک کانٹا دل کو ڈستا تھا

 ادراک


اک کانٹا دل کو ڈستا تھا

موت سے پہلے ہی

اس نے ہوش میں آ کر

بچوں سے کیوں نظریں پھیریں

برسوں بعد

سپید لبادہ اوڑھے آئی

بولی میں نے جیتے جی پل پل

رشتوں کے کرب کو جھیلا ہے

موت آزادی کی راحت ہے

موت سے پہلے ہی

مرنے کا ادراک ہوا


حامدی کاشمیری

No comments:

Post a Comment