صفحات

Wednesday, 3 November 2021

دشت در دشت پھرا کرتا ہوں پیاسا ہوں میں

 دشت در دشت پھرا کرتا ہوں پیاسا ہوں میں

اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ دریا ہوں میں

تنگ صحرا نظر آیا ہے جو پھیلا ہوں میں

ہو گئی ہے مِری تصویر جو سمٹا ہوں میں

جستجو جس کی سفینوں کو رہی ہے صدیوں

دوستو! میرے وہ بے نام جزیرہ ہوں میں

کس لیے مجھ پہ ہے یہ سست روی کا الزام

زندگی دیکھ لے خود تیرا سراپا ہوں میں

آرزو میرے قدم کی تھی کبھی راہوں کو

آج لیکن دلِ امکاں میں کھٹکتا ہوں میں

پڑھ سکو گر تو کھلیں تم پہ رموزِ ہستی

وقت کے ہاتھ میں اک ایسا صحیفہ ہوں میں

انجمن ہوں میں کبھی ذات سے اپنی شبلی

اور محفل میں بھی رہ کر کبھی تنہا ہوں میں


علقمہ شبلی

No comments:

Post a Comment