وقت مجھ کو کہاں لے آیا
مجھ سے باغی ہوا میرا سایا
کوئی ایسا نقیب آئے جو
چھین لے مجھ سے سارا سرمایا
تیری یادوں نے پھر کروٹ لی
میرا دل آج پھر گھبرایا
غم تو ہے بھری بہاروں میں
آرزوؤں کا پھول مرجھایا
تجھ کو کھو کر نہ مسکرائی کبھی
میں نے آنچل کبھی نہ لہرآیا
رنج وغم کے بغیر تمثیلہ
میرے حصے میں کچھ نہ آیا
تمثیلہ لطیف
No comments:
Post a Comment