صفحات

Tuesday, 23 November 2021

ہوائے عشق میں شامل ہوس کی لو ہی رہی

 ہوائے عشق میں شامل ہوس کی لو ہی رہی

بڑھا بھی ربط تو بے ربط گفتگو ہی رہی

نہ آئی ہاتھ میں تتلی گداز خوشبو کی

گل بدن کی مہک میرے چار سو ہی رہی

وہ دشت دشت سی آنکھیں چمن چمن چہرہ

سراب خوف کی اک لہر روبرو ہی رہی

طلوع افق پہ ہے اب تک وہی ستارۂ باد

میں بھول جاؤں اسے دل میں آرزو ہی رہی

ہزار بار لٹا حسنِ برگ و بار، مگر

رگ‌ شجر میں رواں موج رنگ و بو ہی رہی

ہری رُتوں کی ہوئی آسمان سے بارش

مگر زمینِ تمنا لہو ہی رہی

سفر کی دھوپ نے تن من جلا دیا میرا

مدارِ دشت میں سائے کی جستجو ہی رہی

ہوا نہ دور مِرے دل سے زنگ محرومی

تمام رات رواں چشمِ آبجو ہی رہی

ابد ابد سے مِری خود سے جنگ جاری ہے

یہ خیر و شر کی بلا مجھ سے دو بدو ہی رہی

ابلتا رہتا ہے سینے میں کرب کا لاوا

لباس خاک کو بھی حاجت رفو ہی رہی

طوافِ شہرِ نگاراں مِرا ہی جرم نہیں

زن ہوا بھی تو آوارہ کو بہ کو ہی رہی


صدیق افغانی

No comments:

Post a Comment