تُو نہیں آیا تیرے خواب آئے
خواب ٹُوٹے تو پھر عذاب آئے
پھر نئے سر سے دل میں ہوک اٹھی
تیرے غم پھر سے کامیاب آئے
لفظ بس تھا ہی ایک نام تِرا
دل پہ تیری مگر کتاب آئے
جانے کس دھن میں مسکرائے تھے آپ
آئے گل، اور بے حساب آئے
خوشبوؤں سے فضا مہک اٹھی
عین پت جھڑ میں وہ گلاب آئے
اکثر ایسے بھی سانحے گزرے
شہر کے شہر زیرِ آب آئے
جب تصور میں تو نظر آیا
جیسے فرزانہ پہ شباب آئے
فرزانہ غوری
No comments:
Post a Comment