صفحات

Tuesday, 23 November 2021

مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا

 مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا

پہلے جو اضطراب تھا نہ رہا

کفر ہی دین بن گیا میرا

کفر میں جو حجاب تھا نہ رہا

لذتِ صبح و شام بھول گئے

دل جو بھن کر کباب تھا نہ رہا

بے حیائی کی اوڑھ لی چادر

پہلے وہ آب آب تھا نہ رہا

اس نے اب ساتھ میرا چھوڑ دیا

عشق میں کامیاب تھا نہ رہا

روز و شب چین سے گزرتے ہیں

وقت میں پیچ و تاب تھا نہ رہا

ہو گئے اس کے در کے پہرے دار

میرا جینا عذاب تھا نہ رہا

شام ہوتے ہی بجھ گیا عاجز

ایک مفلس کا خواب تھا نہ رہا


لئیق عاجز

No comments:

Post a Comment