صفحات

Tuesday, 23 November 2021

نظر نے کام کیا دل کے ترجماں کی طرح

 نظر نے کام کیا دل کے ترجماں کی طرح

نگاہیں کہہ گئی سب حال دل زباں کی طرح

کیے تھے بے خودیٔ شوق میں جہاں سجدے

وہی زمیں نظر آتی ہے آسماں کی طرح

نظر ملی ہے تو پہچان جائے اہلِ چمن

دکھائی دیتے ہیں گلچیں بھی باغباں کی طرح

کتاب زیست کا شیرازہ بند کوئی نہیں

بکھر گئی ہے کسی نظم بوستاں کی طرح

نہ برگ و بار نہ شادابیاں نہ غنچہ و گل

یہی بہار اگر ہے تو ہے خزاں کی طرح

تمہارے شہر میں مدت سے یہ تمنا ہے

دکھائی دے کوئی بے مہر مہرباں کی طرح

خدا گواہ کہ اک عمر کا اثاثہ ہے

نہ کیوں عزیز رکھوں علم و فن کو جاں کی طرح

کسے بتائیں کہ تھے ہم بھی ہمنشیں اے سیف

وہ تاج بھول گئے یاد رفتگاں کی طرح


ریاست علی تاج

No comments:

Post a Comment