صفحات

Tuesday, 23 November 2021

مجھے بھی دھوکہ کھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

مجھے بھی دھوکہ کھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

اسے بھی آزمانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

ہواؤں کو منانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

چراغوں کو بجھانے میں ذرا سی دیر لگتی

سنو، آنسو بہانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

شراروں کو بجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

بدل جاتے ہیں یہ موسم بکھر جاتے ہیں یہ گلشن

صبا کو سر اٹھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

اشاروں پر نچاتی ہے سیاست آندھیوں کو بھی

ہواؤں کو سکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

مٹائے گا مگر کیسے محبت آدمی دل سے

پرانے خط جلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے


عادل اشرف

No comments:

Post a Comment