صفحات

Tuesday, 23 November 2021

دل ابھی محو یاس ہے شاید

 دل ابھی محوِ یاس ہے شاید

پھر بھی ملنے کی آس ہے شاید

اک تسلسل سا ہے اداسی کا

سارا عالم اداس ہے شاید

ایک ہم ہی نہیں فراق زدہ

اس کے دل میں بھی پھانس ہے شاید

دل بڑی شدتوں سے دھڑکا ہے

تو کہیں آس پاس ہے شاید

شیرنی جو لبوں پہ چسپاں ہے

ان لبوں کی مٹھاس ہے شاید

جاں ہتھیلی پہ لے کے نکلا ہے

کوئی وعدہ شناس ہے شاید


مظہر قریشی

No comments:

Post a Comment