صفحات

Monday, 22 November 2021

چل یہاں سے یہ در اغیار ہے

 چل یہاں سے یہ درِ اغیار ہے

دل سیاسی ہے زباں تلوار ہے

چاشنی اس کی زباں کی دیکھ مت

کیا کہیں اس سے بڑا ہتھیار ہے

سارے مطلب کے تعلق ہیں یہاں

سب کو اپنے کام سے درکار ہے

سچ یہاں پر بولنا توہینِ سچ

جھوٹ کا گرما گرم بازار ہے

خامشی تیرے لیے بہتر رئیس

دشمنوں کی ہو گئی بھرمار ہے


رئیس احمد

No comments:

Post a Comment