یہ زندگی نئے منظر دکھا رہی ہے مجھے
خزاں ہے آخری موسم بتا رہی ہے مجھے
ہنسا رہی ہے کبھی یہ رُلا رہی ہے مجھے
غزل مِری ہی کہانی سنا رہی ہے مجھے
وہ ایک شے جو کہ سینے میں ہے کہیں موجود
کسی کے حکم پہ پل پل چلا رہی ہے مجھے
یہ اتفاق نہیں ہیں کوئی دعا ہے جو
یوں حادثوں سے مسلسل بچا رہی ہے مجھے
تُو بزدلی نہ سمجھ، یہ ہی تو شرافت ہے
مِرے لہو کی نفاست جُھکا رہی ہے مجھے
جو ایک لہر بھنور کے تھی آس پاس کہیں
وہ دھیرے دھیرے کنارے لگا رہی ہے مجھے
بغیر اس کے تھی ممکن کہاں رہائی مِری
یہ موت آ کے بلا سے چُھڑا رہی ہے مجھے
نئے لباس میں لِپٹا ہوا ہوں، اور یہ زمیں
مِرے وجود کی قیمت بتا رہی ہے مجھے
یہ تیز دھوپ یہ صحراؤں کا سفر رخسار
یہی تپش ہے جو کُندن بنا رہی ہے مجھے
رخسار ناظم آبادی
No comments:
Post a Comment