صفحات

Monday, 22 November 2021

وہ زندگی تھی اس سے گلہ ہی نہیں مجھے

 وہ زندگی تھی اُس سے گِلہ ہی نہیں مجھے

اک درد دل میں تھا جو رہا ہی نہیں مجھے

اک بار اُس نے مجھ کو پکارا تھا کہہ کے جاں

پھر ہوش اس کے بعد سے تھا ہی نہیں مجھے

مانگی تھی اس نےجان، سو ہنس ہنس کے پیش کی

پھر اِس کے بعد اُس نے کہا ہی نہیں مجھے

کرتا ہے پیار اب وہ کسی اور سے، مگر

اس سے کڑی تو اور سزا ہی نہیں مجھے

پہلا وہ عشق تھا جو مجھے اُس سے ہو گیا

پھر اس کے بعد تو یہ ہوا ہی نہیں مجھے

ملتے رہے ہیں لوگ بچھڑ کر یہاں پہ بھی

بچھڑا وہ اس طرح کہ ملا ہی نہیں مجھے

کہنے میں جس سے داستاں دل کی گیا عجیب

حیرت ہوئی جب اُس نے سنا ہی نہیں مجھے


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment