صفحات

Sunday, 21 November 2021

نگاہ شوق کیوں مائل نہیں ہے

 نگاہِ شوق کیوں مائل نہیں ہے

کوئی دیوار اب حائل نہیں ہے

سحر دم ہی گھروں سے چل پڑے سب

کوئی جادہ، کوئی منزل نہیں ہے

سبھی کی نظریں ہیں کشتی کے رخ پر

مگر اس بحر کا ساحل نہیں ہے

کریں کس سے توقع منصفی کی

کوئی ایسا ہے جو قاتل نہیں ہے


حامدی کاشمیری

No comments:

Post a Comment