صفحات

Tuesday, 23 November 2021

رات کے پچھلے پہر جس نے جگایا کیا تھا

 رات کے پچھلے پہر جس نے جگایا، کیا تھا

کوئی آسیب زدہ ہجر کا سایہ، کیا تھا

نہ تو ہم سمجھے، نہ کی کوئی وضاحت دل نے

جانے اپنا تھا کہ وہ شخص پرایا، کیا تھا

یہ تو سچ ہے کہ لبوں نے نہ کوئی جنبش کی

پر نگاہوں نے جو پیغام سنایا، کیا تھا

یوں سمندر کا ہوا سے تو کوئی ربط نہ تھا

لہر نے پھر بھی جو یہ شور مچایا، کیا تھا

وہ جو احساسِ تعلق تھا تعلق کے بغیر

اس نے سمجھا نہ کبھی ہم نے جتایا، کیا تھا


علینا عترت

No comments:

Post a Comment