ایماں ملا ہے چاہے فقط نام کا مجھے
کیوں خوف ہو گا پھر برے انجام کا مجھے
فکرِ معاش وجہِ دلِ بے قرار ہے
رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھے
کیوں قوتِ خرید دکھاؤں میں خواہ مخواہ
اندازہ تک نہیں ہے اگر دام کا مجھے
سمجھوں میں کس طرح بھلا اس کو متاعِ زیست
بخشا گیا ہے مال جو نیلام کا مجھے
محوِ سفر ہوں شوق سے کچھ وسوسوں کے سنگ
ادراک ہے اگرچہ ہر اک گام کا مجھے
اک شام لوٹ آئے گا بھولا وہ صبح کا
ہے انتظار ایسی کسی شام کا مجھے
خفگی ہے آپ کی بھی بجا دل سے معذرت
مطلب سمجھ نہ آیا جو پیغام کا مجھے
کچھ خاص لوگ بھی ہیں میرے آشنا مگر
ہر شخص جانتا ہے صفِ عام کا مجھے
طاہر سکون جن سے کبھی مل نہیں سکا
دیتے ہیں مشورہ وہی آرام کا مجھے
طاہر مسعود
No comments:
Post a Comment