صفحات

Wednesday, 3 November 2021

آرزو آباد ہے بکھرے کھنڈر کے آس پاس

 آرزو آباد ہے بکھرے کھنڈر کے آس پاس

درد کی دہلیز پر گردِ سفر کے آس پاس

خار کی ہر نوک کو مجروح کر دینے کے بعد

لوٹ جانا ہے مجھے برگ و ثمر کے آس پاس

دیدنی ہیں چاہتوں کی نرم و نازک لغزشیں

گردشِ ایام میں شام و سحر کے آس پاس

دور اک خاموش بستی کی گلی میں دیکھنا

ہے تمنا مطمئن مخدوش گھر کے آس پاس

چھا گئی طوفان کے ہونٹوں پہ شیطانی ہنسی

دیکھ کر کشتی شکستہ سی بھنور کے آس پاس

جب کوئی روشن نشاں ملتا نہیں ہے دھند میں

ڈھونڈھتا ہوں نقشِ پا راہگزر کے آس پاس

پھول پتوں کی فضا سے سج گئی دنیا مِری

ہے کہاں ارماں مِرا لعل و گہر کے آس پاس

بے نیازی وقت سے مجھ میں نہ قائم ہو سکی

میں سدا حاضر رہا تازہ خبر کے آس پاس

کوچۂ دلدار کا رنگیں زمانہ ساہنی

آج بھی آباد ہے زخمِ جگر کے آس پاس


جعفر ساہنی

No comments:

Post a Comment