صفحات

Tuesday, 2 November 2021

خود اپنی آنکھ کے آنسو کے ہمسفر ہوئے ہم

 خود اپنی آنکھ کے آنسو کے ہمسفر ہوئے ہم

تمہارے دل سے جو نکلے تو دربدر ہوئے ہم

ہم اپنے آپ کی ہمت سے آج باقی ہیں

ہمیں مٹاؤ گے کیسے کہ اب امر ہوئے ہم

ہماری نیند سے پلکیں ہوئی تھیں بھاری بہت

لگی نہ آنکھ کسی پر کہ کم نظر ہوئے ہم

تمہارے نقشِ قدم اس قدر عزیز ہوئے

کہ تیرے گاؤں کی مشہور رہگزر ہوئے ہم

تمہارے ساتھ نہ ہونے سے ڈرتے رہتے تھے

تمہارے ساتھ کے ہونے سے بے خطر ہوئے ہم

بس ایک دور تھا اس کو بلا کی چاہت تھی

کبھی ستارے فلک کے کبھی قمر ہوئے ہم

ہماری نیند سے چمٹی ہے گرد خوابوں کی

سفر پذیر خیالوں کی شب، سحر ہوئے ہم


فاتحہ چوہدری

No comments:

Post a Comment