خود اپنی آنکھ کے آنسو کے ہمسفر ہوئے ہم
تمہارے دل سے جو نکلے تو دربدر ہوئے ہم
ہم اپنے آپ کی ہمت سے آج باقی ہیں
ہمیں مٹاؤ گے کیسے کہ اب امر ہوئے ہم
ہماری نیند سے پلکیں ہوئی تھیں بھاری بہت
لگی نہ آنکھ کسی پر کہ کم نظر ہوئے ہم
تمہارے نقشِ قدم اس قدر عزیز ہوئے
کہ تیرے گاؤں کی مشہور رہگزر ہوئے ہم
تمہارے ساتھ نہ ہونے سے ڈرتے رہتے تھے
تمہارے ساتھ کے ہونے سے بے خطر ہوئے ہم
بس ایک دور تھا اس کو بلا کی چاہت تھی
کبھی ستارے فلک کے کبھی قمر ہوئے ہم
ہماری نیند سے چمٹی ہے گرد خوابوں کی
سفر پذیر خیالوں کی شب، سحر ہوئے ہم
فاتحہ چوہدری
No comments:
Post a Comment