Tuesday, 2 November 2021

سبھی تو ہیں مگر اب مہرباں کہاں ہے کوئی

 سبھی تو ہیں مگر اب مہرباں کہاں ہے کوئی

نظر میں پیار لیے درمیاں کہاں ہے کوئی

اک اپنا سر ہی نہیں دل بھی میں جھکا دوں گا

مگر بتاؤ ذرا آستاں کہاں ہے کوئی

ستمگری کی حدیں اس نے توڑ ڈالی ہیں

ہماری طرح مگر بے زباں کہاں ہے کوئی

کبھی تو پورے شجر پر تھا اپنا کاشانہ

ہمارے نام کا اب آشیاں کہاں ہے کوئی

تمہاری اپنی ہی کشتی ڈبو نہ دے تم کو

ہوا ہے تیز مگر بادباں کہاں ہے کوئی

ہمارے پاؤں تلے کی زمین کھینچتے ہو

ہمارے بعد تمہارا جہاں کہاں ہے کوئی

کرو گے غور تو انجم سمجھ میں آئے گا

زمیں ہے چاروں طرف آسماں کہاں ہے کوئی


مشتاق انجم

No comments:

Post a Comment