صفحات

Monday, 22 November 2021

ابھرتے ڈوبتے تارے پہ کون جیتا ہے

 ابھرتے ڈوبتے تارے پہ کون جیتا ہے

شرابیوں کے سہارے پہ کون جیتا ہے

سڑک پہ ایک بھکاری نے بھوک چنتے کہا

تمام عمر کے لارے پہ کون جیتا ہے

محبتوں میں ہیں درکار بولتی آنکھیں

تِرے خموش اشارے پہ کون جیتا ہے

جدائیوں کے بھنور میں اترنے سے پہلے

مِرے عزیز! کنارے پہ کون جیتا ہے

یہ دیکھنا ہے مکمل بدن کے ساتھ مجھے

کہ تیرے ہجر کے آرے پہ کون جیتا ہے

اے آرزو کے چمکتے ہوئے فلک زادے

بجھے بجھے سے ستارے پہ کون جیتا ہے

اسی لیے تو تِرے بعد خوب عشق کیا

اس عمر بھر کے خسارے پہ کون جیتا ہے


وقاص عزیز

No comments:

Post a Comment