صفحات

Monday, 22 November 2021

خوب ہے گرمیٔ بازارِ ہوس اب کے برس

 خوب ہے گرمیٔ بازارِ ہوس اب کے برس

اونچے داموں بک رہے ہیں خار و خس اب کے برس

کاٹتے کٹتا نہیں چوبیس گھنٹے کا پہاڑ

بوجھ دل پر بن گیا اک اک نفس اب کے برس

منتظر کب سے کھڑا ہے کاروانِ زندگی

پھر پکارے کوئی آوازِ جرس اب کے برس

اک قدم آگے بڑھے تو دو قدم پیچھے ہٹے

راہِ الفت میں عجب ہے پیش و پس اب کے برس

سرد ہو کر رہ گیا ہے جذبۂ رقصِ جنوں

کوئی دیوانہ نہ ہو گا ٹس سے مس اب کے برس

گنبدِ قصرِ محبت ڈھا دئیے جائیں گے سب

قلعۂ نفرت پہ چمکیں گے کلس اب کے برس

ہو رہا ہے آج صیادوں میں صابر مشورہ

اونچی کی جائے گی دیوارِ قفس اب کے برس


حلیم صابر

No comments:

Post a Comment