صفحات

Monday, 22 November 2021

بیتے لمحوں کے آنگن میں بے چینی دن رات ملی

 بیتے لمحوں کے آنگن میں بے چینی دن رات ملی

پیار بنا جب دشمن دل کا، کیا اچھی سوغات ملی

سوچ کی گہری تاریکی میں روشن آنکھیں ڈوب گئیں

تب بھیگی پلکوں سے مجھ کو شبنم کی برسات ملی

کھونا کیا اور پانا کیا ہے، مُٹھی بھر کر لانا کیا

زیست کی ساری دولت کھو کر مجھ کو میری ذات ملی

کیسی کیسی چال چلی ہے الفت کے دو راہے پر

ہار کے جیتی بازی اس نے، اندھی مجھ کو مات ملی

آئینے کے ہر ٹکڑے میں ٹوٹا پھوٹا چہرہ تھا

خود پر جس دم غور کیا تو کرچوں کی بارات ملی

شعر انوکھے میں نے کہے تھے زارا اس کی چاہت میں

زہر میں ڈوبی لیکن مجھ کو اس کی ہر اک بات ملی


زارا فراز

No comments:

Post a Comment