میں مارا ہی جاؤں گا اپنوں کے اندر
چھپا رہنے دے مجھ کو غیروں کے اندر
ہمارا زمانے سے کیوں پوچھتے ہو
ملیں گے تمہیں رونے والوں کے اندر
اندھیروں میں واپس مجھے جانے دو تم
گُھٹن ہو رہی ہے اُجالوں کے اندر
ذرا اپنی سانسوں میں محسوس کر تُو
میں موجود ہوں تیری سانسوں کے اندر
حسد کرتی ہیں یہ سمندر کی لہریں
ہے پانی بہت میری آنکھوں کے اندر
چلا جا غریبوں کی بستی میں روبی
تِرا کام کیا اِن امیروں کے اندر
روبنسن روبی
No comments:
Post a Comment