صفحات

Monday, 22 November 2021

محبت کی ہے فطرت آگ لہکائے گی پانی میں

 محبت کی ہے فطرت آگ لہکائے گی پانی میں

یہ وہ مچھلی ہے جو تنہا نہیں جائے گی پانی میں

کنول کے پھول کی چاہت اسے لائے گی پانی میں

لبِ جُو منتظر ہوں میں کہ وہ آئے گی پانی میں

مجھے کیا غم ہے جو فرعون پیچھے سامنے دریا

عصا سے کام لوں گا راہ بن جائے گی پانی میں

ہمارا سر اگر ننگا ہے تو اچھا ہے اس سر سے

کہ اس کی کاغذی دستار گل جائے گی پانی میں

مجھے معلوم ہے کشتی بھنور میں ڈوب جاتی ہے

مگر کیا کیجیۓ کشتی ہے تو جائے گی پانی میں

گھٹاؤں کے برسنے کی دعا مت مانگ اے اشرف

تِری اوقات مٹی کی ہے بہہ جائے گی پانی میں


اشرف یعقوبی

No comments:

Post a Comment