Monday, 22 November 2021

میں مارا ہی جاؤں گا اپنوں کے اندر

 میں مارا ہی جاؤں گا اپنوں کے اندر

چھپا رہنے دے مجھ کو غیروں کے اندر

ہمارا زمانے سے کیوں پوچھتے ہو

ملیں گے تمہیں رونے والوں کے اندر

اندھیروں میں واپس مجھے جانے دو تم

گُھٹن ہو رہی ہے اُجالوں کے اندر

ذرا اپنی سانسوں میں محسوس کر تُو

میں موجود ہوں تیری سانسوں کے اندر

حسد کرتی ہیں یہ سمندر کی لہریں

ہے پانی بہت میری آنکھوں کے اندر

چلا جا غریبوں کی بستی میں روبی

تِرا کام کیا اِن امیروں کے اندر


روبنسن روبی

No comments:

Post a Comment