عارفانہ کلام نعتیہ کلام
درِ شاہِ دو جہاںؐ پر، ملے حاضری مجھے بھی
کہوں بات اپنے دل کی، سنے زندگی مجھے بھی
ہوئے روز و شب معطر، رہا دھیان میں مدینہ
تِرے آستاں پہ آؤں، عطا اک گھڑی مجھے بھی
جو ہو دھیان میں مدینہ، ملے قلب کو قرینہ
جھکے سر جھکے یہ سینہ، ملے بندگی مجھے بھی
شہِ عاشقاں! سنو تو، مِری عرضِ صبح گاہی
میں ہوں قید خار و خس میں، ملے زندگی مجھے بھی
تِراﷺ نام جب پکارا، ہوا قلب میں سویرا
تِرے ذکر سے ہمیشہ، ملی روشنی مجھے بھی
خاور چودھری
No comments:
Post a Comment