عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جب رسولِؐ پاک کی بھگتی کروں
قیصرِ افلاک کو راضی کروں
علم الانساں، وراثت ہے مِری
کیوں نہ اس اقلیم کی شاہی کروں
آنسوؤں کی آبشاریں ہیں رواں
پیدا کشتِ آب سے روزی کروں
حل نہیں ہوتا ریاضی کا سوال
میں سے میں کو کس طرح منفی کروں
کون ہے حلاج کا ہمسر یہاں
بول کس معیار سے گنتی کروں
تھاپ پر طبلے کی گھنگرو باندھ کر
اعترافِ عشق اور مستی کروں
کون ہے جگ میں محمدﷺ آشنا
کس کو اپنے شہر کا قاضی کروں
آ تجھے، مسعود، بابِ علم پر
رازدارِ کشورِ علوی کروں
مسعود منور
No comments:
Post a Comment