جو جہاں ہے وہیں پہ رہنے دو
تم زمیں کو زمیں پہ رہنے دو
میری رگ رگ میں رہنے والے تم
اب مجھے بھی کہیں پہ رہنے دو
تم پرندے ہو، تم چلے جاؤ
اس شجر کو یہیں پہ رہنے دو
میری یادوں کو دل میں رکھ لو ناں
ایک احساں مکیں پہ رہنے دو
مسکرا کر گِلے نہیں ہوتے
تھوڑا غصہ جبیں پہ رہنے دو
نہ مٹاؤ نشاں محبت کے
یہ دراڑیں نگیں پہ رہنے دو
اب نکالو نہ حافظے سے بھی
یار مجھ کو کہیں پہ رہنے دو
ویسی! رونا نہیں بچھڑ کر تم
قرض یہ بھی حزیں پہ رہنے دو
اویس احمد ویسی
No comments:
Post a Comment