Monday, 22 November 2021

جو جہاں ہے وہیں پہ رہنے دو

 جو جہاں ہے وہیں پہ رہنے دو

تم زمیں کو زمیں پہ رہنے دو

میری رگ رگ میں رہنے والے تم

اب مجھے بھی کہیں پہ رہنے دو

تم پرندے ہو، تم چلے جاؤ

اس شجر کو یہیں پہ رہنے دو

میری یادوں کو دل میں رکھ لو ناں

ایک احساں مکیں پہ رہنے دو

مسکرا کر گِلے نہیں ہوتے

تھوڑا غصہ جبیں پہ رہنے دو

نہ مٹاؤ نشاں محبت کے

یہ دراڑیں نگیں پہ رہنے دو

اب نکالو نہ حافظے سے بھی

یار مجھ کو کہیں پہ رہنے دو

ویسی! رونا نہیں بچھڑ کر تم

قرض یہ بھی حزیں پہ رہنے دو


اویس احمد ویسی

No comments:

Post a Comment