Monday, 22 November 2021

نظم پوری نہیں کروں گا

 وہ ایک لڑکی

جسے میں پریوں سے بڑھ کے سندر بتا رہا ہوں

یقین مانو

وہ واقعی ہے

کہ اس کی آنکھوں کے سارے سپنے

حیا کی چادر میں ایسے لپٹے ہیں جیسے کوئی

گلاب زادی نقاب اوڑھے ہوئے کھڑی ہو

میں اس کے لفظوں

کے سارے مطلب سمجھ چکا ہوں

کہ سارے اچھے حسیں معانی

اسی کے لفظوں سے ہو کے مجھ تک پہنچ رہے ہیں

میں اس کے جذبوں کی خیر مانگوں

تو میری دنیا سنورتی جائے

وہ جب سے میرے بے رنگ جیون میں آ گئی ہے

یقین مانو

تمام رنگوں نے میرے قدموں کو چھو لیا ہے

وہ آج پھر ایک مخملی سی حسین چادر سے سر کو ڈھانپے

بہت سلیقے سے شعر پڑھتی

مِرے خیالوں میں آ رہی ہے

مِرے شعور اور گماں کی سرحد کو

رفتہ رفتہ مٹا رہی ہے

مگر میں سوچوں کے تہہ خانے

سے خود کو باہر نکال لوں گا

مجھے وہ اچھے سے جانتی ہے

سمے سے پہلے ہی خواہشوں کی

میں جی حضوری نہیں کروں گا

یہ نظم پوری نہیں کروں گا


مبشر میو

No comments:

Post a Comment