وہ ایک لڑکی
جسے میں پریوں سے بڑھ کے سندر بتا رہا ہوں
یقین مانو
وہ واقعی ہے
کہ اس کی آنکھوں کے سارے سپنے
حیا کی چادر میں ایسے لپٹے ہیں جیسے کوئی
گلاب زادی نقاب اوڑھے ہوئے کھڑی ہو
میں اس کے لفظوں
کے سارے مطلب سمجھ چکا ہوں
کہ سارے اچھے حسیں معانی
اسی کے لفظوں سے ہو کے مجھ تک پہنچ رہے ہیں
میں اس کے جذبوں کی خیر مانگوں
تو میری دنیا سنورتی جائے
وہ جب سے میرے بے رنگ جیون میں آ گئی ہے
یقین مانو
تمام رنگوں نے میرے قدموں کو چھو لیا ہے
وہ آج پھر ایک مخملی سی حسین چادر سے سر کو ڈھانپے
بہت سلیقے سے شعر پڑھتی
مِرے خیالوں میں آ رہی ہے
مِرے شعور اور گماں کی سرحد کو
رفتہ رفتہ مٹا رہی ہے
مگر میں سوچوں کے تہہ خانے
سے خود کو باہر نکال لوں گا
مجھے وہ اچھے سے جانتی ہے
سمے سے پہلے ہی خواہشوں کی
میں جی حضوری نہیں کروں گا
یہ نظم پوری نہیں کروں گا
مبشر میو
No comments:
Post a Comment